Ticker

6/recent/ticker-posts

Header Ads Widget

Responsive Advertisement

وعدہ، قول و قرار کر کے مکر جاتے ہوں گے




وعدہ، قول و قرار کر کے مکر جاتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے 

دیار غیر میں پریشاں و غلطاں بس اسی سوچ میں ہوں
کون سے راستے، کہاں سے اس کے گھر کو جاتے ہوں گے

تیری صورت، تیری سیرت ، تیرے وعدوں پہ لعنت
آج مجھ کو کر رہے ہیں ملامت، کبھی تو اتراتے ہوں گے

میرے کردار پہ، میرے اقرار پہ، ہے آج اعتراض جن کو
میری محبت کو پانے کے لیے نجانے کہاں کہاں وہ جاتے ہوں گے

آج مجھ کو کہتے ہیں سرعام جو بے وفا عین!
کبھی سوچا بھی ہے کہ کیسے وہ تعلق کو نبھاتے ہوں گے

(عین عظیم)

Post a Comment

0 Comments