اسمر: عین عظیم
کتنے ہی برس تری یاد میں تڑپ کر گزار دیے
تخیلاتی دنیا میں غرق ہو کر تجھے لکھا
آنکھیں بند کرنے پہ تم ہی نظر آئی
مگر مکمل کبھی بھی نہیں آئی
میں تجھے دیکھنا چاہتا تھا
محسوس کرنا چاہتا تھا
سپنوں میں سجانا چاہتا تھا
اپنوں میں بٹھانا چاہتا تھا
کچھ پل ساتھ رہنا تھا
مجھے تم سے کچھ تو کہنا تھا
شاید تم روٹھ چکی ہو
بہت دور جا چکی ہو
یا پھر واپس آ گئی ہو
مگر کیوں؟ تم واپس آگئی ہو
میری بے بسی پہ ہنسنا چاہتی ہو؟
میری کم مائیگی پہ رونا چاہتی ہو؟
تم ہو؟ نہیں ہو؟ کی کشمکش مجھے ستا رہی ہے
میں کیا لکھ رہا تھا؟ میں کیا لکھ رہا ہوں ؟
کیوں لکھ رہا ہوں ؟
کچھ بھی تو سمجھ نہیں آرہا
دیوار کو گھنٹوں تکتا ہوں
تیری باتیں خود ہی سے کرتا ہوں
ترے تصور میں خود ہی مسکراتا ہوں
خود ہی ہنستا ہوں ، خود کو رُلاتا ہوں
اس کیفیت سے تنگ آ گیا ہوں
مگر تم کہاں ہو
تم میرے پاس بیٹھو
میری کیفیت سمجھو
تم ہو بھی؟ یا نہیں
مجھے بتا تو سکتی ہو
گلے لگا تو سکتی ہو
نہیں تم کہاں ؟
تم تو تخیل ہو
آنکھیں آخر کیوں نہ نم ہوں؟
مرا یہ بھرم تھا میرے پاس تم ہو
مگر تو کہیں نہیں ہے
ترا وہ لہجہ بھی نہیں ہے
میں اپنا دماغی توازن کھو بیٹھا ہوں
میرا وجود ریزہ ریزہ بکھر چکا ہے
میرے مکمل ٹوٹنے سے پہلے لوٹ آؤ
میں جانتا ہوں تخیل حقیقت نہیں بنتا
لوگ کہتے ہیں راہگزر پہ گھونسلہ نہیں بنتا
مگر کہنے سے کیا ہوگا
تم بھلے مرا تخیل ہی سہی
تمہیں لوٹ آنا ہے مرے پاس
اے مرے گلشنِ ہستی کے رنگین تخیل
میں تمہیں گنوانا نہیں چاہتا
تمہیں لوٹ کر آنا ہوگا
تم لوٹ تو آؤ گی ناں ؟
اے جانِ عین، ہمنوا کی ملکہ
اے بلبلِ نغمہ سرا کی ملکہ
تم ہو تو میرے پاس کیوں نہیں ہو؟
بہاروں میں گلوں کی آس کیوں نہیں ہو؟
کیا تم بھی محتاجِ قرطاس و قلم ہو ؟
کیا تم بھی منبعِ یاس و الم ہو ؟
کیا تم بھی بیتابِ گردابِ گماں ہو ؟
کیا تم بھی محوِ تماشائے آہو فغاں ہو ؟
یا پھر مقیدِ زمان و مکاں ہو ؟
یا مری بینائی سے اوجھل سماں ہو ؟
گر تم ہو، تو آخر کہاں ہو ؟
یا فقط میرا وہم و گماں ہو ؟
0 Comments