لکھتا ہوں ترا نام مٹا دیتا ہوں
مت سوچ کہ خود کو دغا دیتا ہوں
تم جو سامنے آتے نہیں ہو
تھک کے نظریں میں جھکا دیتا ہوں
میں مانگنے والوں کو کیا دیتا ہوں
کچھ نہیں بن پاتا تو دعا دیتا ہوں
جب کوئی غم کے سمندر میں ڈوبا
آئے میرے پاس تو ہنسا دیتا ہوں
شبِ ہجر کے ماروں کو مسیحا بن کر
دردِ دل کی، عین دوا دیتا ہوں
(عین عظیم)

0 Comments