حیرت نہیں ہوئی
حیرت نہیں ہوئی
تجھے یوں زندہ دیکھ کر
تو جو کہتا تھا کہ بچھڑا اگر
تو مرجاؤں گا
نہ جی پاؤں گا
زندہ نہ رہ پاؤں گا
بن تیرے
حیرت نہیں ہوئی
تجھے یوں شادماں و فرحاں تاک کر
تجھے یوں ثروت و ثمن میں پنہاں تاک کر
تجھے یوں عشرت و کم خواب میں گرداں تاک کر
تیری شادمانیاں،
تیری کامرانیاں،
تیری عشرتیں،
تیری ثروتیں
مجھ ہی سے تو تھیں
حیرت نہیں ہوئی ناں
مجھے خود کے روبرو دیکھ کر
مجھے انجام محبت معلوم پہلے ہی سے تھا
تضاد قول و فعل میں آئے گا
میں جانتا تھا
محبت مجازی ہوتی ہے
میں مانتا تھا
حیرت نہیں ہوئی
تیری عہد شکنی پر
کہ میں نے محبت
جس ذات سے کی تھی
اسی ذاتِ باری نے
تھاما مجھے ایسے کہ گرنے والوں کا سہارا ہوں
ڈوبنے والوں کا کنارہ ہوں
بےکسوں کا یارا ہوں
خوشیوں کو پیارا ہوں
عزیزوں کا دلارا ہوں
گھر کی آنکھوں کا تارا ہوں
تمہیں حیرت نہیں ہوئی ناں
کہ میں ویران بنجر کیوں نہ ہوا؟
آبلہ پا جو کیا تھا تو تنہا کیوں نہ ہوا؟
فراق و ہجر میں کھنڈر کیوں نہ ہوا؟
تیری دہلیز کا رستہ کیوں نہ ہوا؟
تیری وابستہ امیدوں کا محور کیوں نہ ہوا؟
لوٹ کر آنے کا انتظار لمبا کیوں نہ ہوا؟
عشق میں دیدہ و دل پیمانہ نہ ہوا؟
بیٹھ کر میخانے میں میخانہ نہ ہوا؟
تجھ سے وابستہ
فقط تیری ذات ہی تو تھی
مجھ سے وابستہ
اک جہاں ہے
تو نے چاہا تھا
کہ کنارے کو سمندر کر دوں
تقدیر میں سمندر کی
کنارا ہونا لکھا تھا
سمندر کو کنارا ہوتے دیکھ کر
حیرت نہیں ہوئی
حیرت نہیں ہوئی
تجھے یوں تنہا دیکھ کر
حیرت نہیں ہوئی
تجھے یوں شرمندہ دیکھ کر
حیرت نہیں ہوئی
تجھے یوں رنجیدہ دیکھ کر
حیرت نہیں ہوئی
حیرت نہیں ہوئی
مگر غیرت نے میری
ذرا سا جوش مارا ہے
کہ غور سے دیکھو
اس سمندر کو
یہ تو وہی پرانا کنارا ہے
اس سے پہلے کہ جوشِ غیرت مزید بڑھتا
ضمیر نے جھنجوڑ ڈالا
کہ تو جو بے سہاروں کا سہارا ہے
دیکھ تیرا ہی چاہنے والا بے سہارا ہے
شرم سے ڈوب مر اپنے گھمنڈ پر
کہ سب کو پالنے والا ہی سب کا سہارا ہے
اگر ٹھکرانے والا آج بے سہارا ہے
تو اسے بھی تھام لے گا وہ رب
جس نے تجھے تھاما ہوا ہے اب تک
انسان کو جان لینا چاہیے
کہ ہر انسان مقدم ہے
کوئی اشرف نہ کم تر ہے
(عین عظیم)

0 Comments