یہ میرے مزاج کی بات ہے
تو میری نظر سے نہ گر سکا
میں تیری نگاہ سے اتر گیا
تیری غفلتوں کو خبر کہاں
میرے حال دل پہ نظر کہاں
تو جفا کی حد میں نہ آ سکا
میں وفا کی حد سے گزر گیا
کچھ باتیں بے سبب تھیں
جو میں وعدہ کرکے مکر گیا
تیری جفا پر تو یقین تھا
میں اپنی وفا سے ڈر گیا
خدا گواہ ہے تیرے بغیر
میری زندگی تو نہ کٹ سکی
مجھے یہ بتا کہ میرے بنا
تو کیسے جہان سے گزر گیا
کبھی عرش پر کبھی فرش پر
کبھی تیرے در کبھی دربدر
غم عاشقی کا شکریہ
میں کہاں کہاں سے گزر گیا
تیری جستجو میں خبر نہیں
میں کہاں کہاں سے گزر گیا
حد کن فکاں سے گزر گیا
حد لا مکاں سے گزر گیا
تو کہیں نہیں ملا مجھے
سوائے اپنے دل کے
میں جنگلوں سے
دشت و صحرا
سے گزر گیا
تو اپنے سفر کو تمام کر،
گئی رات، پھر آؤں گا لوٹ کر،
عظیم اس نے سنی جب یہ خبر،
تو سرِ شام ہی سنور گیا
تجھے کیسے علم نہ ہوسکا
بڑی دور تک یہ خبر گئی
تیرے ہی شہر کا عین عظیم
تیرے انتظار میں مر گیا
وہ تیرے مزاج کی بات تھی
یہ میرے مزاج کی بات ہے
تو میری نظر سے نہ گر سکا
میں تیری نگاہ سے اتر گیا
(عین عظیم)

0 Comments